بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيم
نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ،
تَجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي النَّوَائِبِ،
كُلُّ هَمٍّ وَ غَمٍّ سَيَنْجَلِي،
بِعَظْمَتِكَ يَا اَللهُ نُبُوَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ
بِوَلايَتِكَ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ

لفظ بہ لفظ ترجمہ

عربی لفظ لفظی معنی مختصر وضاحت
نَادِپکاروادب و تعظیم کے ساتھ ندا دینا
عَلِيّاًعلی کوحضرت علی کرم اللہ وجہہ رضی اللہ عنہ
مَظْهَرَمظہرجگہ یا ذات جہاں کوئی حقیقت ظاہر ہو
الْعَجَائِبِعجائباتاللہ کی غیر معمولی قدرت کے مظاہر
تَجِدْهُتم اسے پاؤ گےتجربے میں تم پر ظاہر ہوگا
عَوْناًمدد / مددگارسہارا، نصرت
لَكَتمہارے لیےتمہارے حق میں، تمہارے واسطے
فِيمیں / کے اندرکسی حالت یا موقع کے اندر
النَّوَائِبِمصیبتوں میںاچانک آنے والی آزمائشیں اور سختیاں
كُلُّہربلااستثناء تمام
هَمٍّفکردل کی بےچینی، فکری پریشانی
وَاورجمع کرنے والا حرفِ عطف
غَمٍّغمرنج، دکھ، دل کا بوجھ
سَيَنْجَلِيدور ہو جائے گاہٹ کر صاف ہو جانا، ختم ہونا
بِعَظْمَتِكَتیری عظمت کے سبباللہ کی کبریائی و جلال کا واسطہ
يَااےنداء، پکارنے کا لفظ
اَللهُاللہواحد و یکتا معبود، حقیقی مددگار
نُبُوَّتِكَتیری نبوتنبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کی نسبت
مُحَمَّدُمحمد ﷺرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
بِوَلايَتِكَتیری ولایت کے وسیلے سےقربِ الٰہی اور روحانی ولایت کی نسبت
عَلِيُّعلیحضرت علی کرم اللہ وجہہ رضی اللہ عنہ

ہر سطر کا الگ ترجمہ

نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکارو، جو اللہ کی عجیب و غریب قدرت کے ظہور کا مظہر ہیں۔
تَجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي النَّوَائِبِ
تم انہیں اپنی مصیبتوں اور آزمائشوں میں اپنے لیے مدد اور سہارا پاؤ گے (یہ سب اللہ کے حکم و اذن سے ہے)۔
كُلُّ هَمٍّ وَ غَمٍّ سَيَنْجَلِي
ہر فکر اور ہر غم دور ہو جائے گا، ہٹ کر صاف ہو جائے گا۔
بِعَظْمَتِكَ يَا اَللهُ
اے اللہ! تیری عظمت اور جلال کے صدقے۔
نُبُوَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ
اور اے محمد ﷺ! تیری نبوت و رسالت کے وسیلے سے۔
بِوَلايَتِكَ يَا عَلِيُّ
اور اے علی رضی اللہ عنہ! تیری ولایت اور قربِ الٰہی کی نسبت کے وسیلے سے۔

مکمل مفہومی ترجمہ

اے اللہ! میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو، جو تیری عجیب و غریب قدرت کے ظہور اور کرامات کے مظہر ہیں، اپنا وسیلہ بنا کر پکارتا ہوں۔ میں انہیں اپنی مصیبتوں اور آزمائشوں میں اپنے لیے مدد اور سہارا پاتا ہوں۔ ہر فکر اور ہر غم تیرے فضل و کرم سے دور ہو جاتا ہے۔ اے اللہ! تیری عظمت و جلال کے صدقے، اور اے محمد مصطفیٰ ﷺ! تیری نبوت اور رسالت کے وسیلے سے، اور اے علی رضی اللہ عنہ! تیری ولایت اور قربِ الٰہی کے وسیلے سے، میرے تمام غموں، فکروں اور مشکلات کو دور فرما۔ بے شک حقیقی مددگار صرف تو ہی ہے۔